7 اگست، 2026، 8:48 PM

مہر نیوز کی خصوصی رپورٹ:

"معاہدۂ مکہ" اور سلامتی کا معمہ؛ صرف اتحاد کیوں کافی نہیں؟

"معاہدۂ مکہ" اور سلامتی کا معمہ؛ صرف اتحاد کیوں کافی نہیں؟

معاہدۂ مکہ برائے مشترکہ دفاع کو مشرقِ وسطیٰ کے سلامتی ڈھانچے کی ازسرِ نو تشکیل کی حالیہ اور اہم ترین کوششوں میں شمار کیا جا سکتا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان نے جمعہ کے روز مکہ مکرمہ میں ’’معاہدۂ مکہ برائے مشترکہ دفاع‘‘ پر دستخط کیے، جس کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اگرچہ معاہدے پر دستخط کرنے والے ممالک نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ معاہدہ کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں اور اس کی نوعیت مکمل طور پر دفاعی ہے، تاہم تین اہم علاقائی ممالک کا اس میں شامل ہونا، خطے کی موجودہ سلامتی صورتحال اور دستخطی تقریب میں اعلیٰ سیاسی و عسکری شخصیات کی شرکت اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ اسے محض ایک معمول کا دفاعی سمجھوتہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

اس معاہدے کی اہمیت صرف اس کے اعلانیہ نکات تک محدود نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر اس حقیقت میں مضمر ہے کہ تینوں ممالک نے علاقائی سلامتی کے تصور کو نئے انداز میں دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ یہ طرزِ فکر اس بات کا اشارہ ہے کہ خطے کے ممالک روایتی سلامتی بندوبستوں پر انحصار کم کر کے مقامی سطح پر دفاعی اور بازدار قوت پیدا کرنے کی سمت بڑھنا چاہتے ہیں۔

معاہدۂ مکہ کیا تبدیلی لاتا ہے؟

دستیاب تفصیلات کے مطابق یہ معاہدہ اجتماعی دفاع کے اصول پر مبنی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملہ ہوتا ہے تو اسے پورے اتحاد پر حملہ تصور کیا جائے گا اور باقی ارکان اس کے دفاع کے لیے معاونت کے پابند ہوں گے۔

یہ شق معاہدے کا سب سے اہم حصہ ہے کیونکہ اس کے ذریعے سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے سلامتی تعلقات دوطرفہ تعاون اور سیاسی مشاورت کے دائرے سے نکل کر ایک سہ فریقی فریم ورک میں داخل ہو جاتے ہیں۔

تاہم موجودہ مرحلے پر اس معاہدے کو نیٹو کے آرٹیکل 5 کے مساوی قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ کسی حملے کی صورت میں فیصلہ سازی کا طریقۂ کار کیا ہوگا، ہر رکن کی عسکری ذمہ داریوں کی نوعیت کیا ہوگی، مشترکہ کمان کا ڈھانچہ کیسے کام کرے گا اور اجتماعی دفاعی شق کو کس طرح فعال بنایا جائے گا۔

اسی لیے فی الحال اس معاہدے کی اصل اہمیت ایک سیاسی اور تزویراتی عہد کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر مستقبل میں اس کے لیے ادارہ جاتی اور عملی ڈھانچے تشکیل پا گئے تو یہ ایک زیادہ منظم سلامتی نظام میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

معاہدے کے فریقین نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اس کے نتیجے میں ان کے پہلے سے موجود دفاعی اور سیاسی اتحاد متاثر نہیں ہوں گے۔ ترکیہ نے بھی تصریح کی ہے کہ نیٹو کی رکنیت اور علاقائی دفاعی تعاون ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ باہم تکمیل کرنے والے عناصر ہیں۔

اسی بنا پر معاہدۂ مکہ کو اس وقت ایک ابھرتے ہوئے سلامتی فریم ورک کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، نہ کہ ایک مکمل اور فعال عسکری اتحاد کے طور پر۔

اصل پیغام؛ امریکی سلامتی چھتری پر انحصار میں کمی

معاہدۂ مکہ کے حوالے سے ایک اہم سوال یہ ہے کہ آیا یہ امریکہ سے دوری اختیار کرنے کا اشارہ ہے یا نہیں؟

فی الحال اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔ ایسا کوئی واضح اشارہ موجود نہیں کہ ریاض، انقرہ یا اسلام آباد واشنگٹن کے ساتھ اپنے سلامتی تعلقات ختم کرنا چاہتے ہوں۔ تینوں ممالک مختلف سطحوں پر امریکہ کے ساتھ سیاسی، اقتصادی اور عسکری روابط رکھتے ہیں۔

البتہ اہم تبدیلی یہ ہے کہ اب یہ ممالک بیرونی سلامتی ضمانتوں کی قابلِ اعتماد حیثیت پر پہلے جیسا یقین نہیں رکھتے۔

گزشتہ چند برسوں میں مشرقِ وسطیٰ کے واقعات نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی ملک کے لیے اپنی سلامتی کو صرف ایک بیرونی طاقت کی موجودگی یا ضمانت سے وابستہ رکھنا کافی نہیں۔ تیل کی تنصیبات پر حملے، غزہ کی جنگ، بحیرہ احمر کا بحران، میزائل اور ڈرون حملے اور حالیہ جنگی تجربات نے خطے کے ممالک کو یہ احساس دلایا ہے کہ بحران کے وقت سیاسی وعدوں اور عملی عسکری مداخلت کے درمیان بڑا فرق ہو سکتا ہے۔

اس تناظر میں معاہدۂ مکہ کو ایک دوسری حفاظتی تہہ پیدا کرنے کی کوشش سمجھا جا سکتا ہے، جس کے تحت علاقائی ممالک امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات برقرار رکھتے ہوئے ایک حد تک دفاعی صلاحیت باہمی تعاون کے ذریعے بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

کیا ایران اس معاہدے کا ہدف ہے؟

معاہدے کے حوالے سے ایک اور اہم سوال اس کا ایران سے تعلق ہے۔

معاہدے کے فریقین نے باضابطہ طور پر کہا ہے کہ یہ کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں اور نہ ہی اس سے علاقائی مکالمے کے دروازے بند ہوتے ہیں۔ اس لیے رسمی طور پر اسے ایران مخالف اتحاد قرار دینا درست نہیں ہوگا۔تاہم خطے کی حقیقت اس سے زیادہ پیچیدہ ہے۔

سعودی عرب گزشتہ چند برسوں میں ایران کے ساتھ براہِ راست محاذ آرائی کی پالیسی سے دور ہو کر کشیدگی میں کمی اور بات چیت کی راہ اختیار کر چکا ہے۔ پاکستان اپنی جغرافیائی حیثیت اور ایران کے ساتھ سرحدی تعلقات کے باعث کسی واضح ایران مخالف اتحاد کا حصہ نہیں بن سکتا، جبکہ ترکیہ بھی ایران کے ساتھ بیک وقت تعاون اور مسابقت دونوں نوعیت کے تعلقات رکھتا ہے۔

اسی لیے غالب امکان یہی ہے کہ معاہدے کو اس انداز میں ترتیب دیا گیا ہے کہ یہ کسی کھلے ایران مخالف محاذ کی شکل اختیار کیے بغیر اپنے ارکان کے لیے اضافی دفاعی اور بازدار صلاحیت پیدا کر سکے۔

اسرائیل اور نئی علاقائی سلامتی

غزہ جنگ کے بعد کے حالات نے یہ واضح کر دیا ہے کہ خطے کے ممالک اب سلامتی کے مسائل کو صرف روایتی خطرات کی عینک سے نہیں دیکھتے۔

اسرائیلی فوجی کارروائیوں، تنازعات کے پھیلاؤ اور جنگ کے دوسرے ممالک تک سرایت کرنے کے خدشات نے علاقائی حکومتوں کی سلامتی ترجیحات کو متاثر کیا ہے۔

اس پس منظر میں اگرچہ معاہدۂ مکہ رسمی طور پر اسرائیل کے خلاف نہیں، لیکن ایک نئے علاقائی دفاعی فریم ورک کا قیام اسرائیل کے لیے تزویراتی مضمرات ضرور رکھ سکتا ہے۔ اسرائیل اب تک اپنی فوجی برتری اور امریکی حمایت کو اپنی علاقائی طاقت کے دو بنیادی ستون سمجھتا رہا ہے۔

یمن اور بحیرہ احمر

معاہدے کا ایک اہم مگر نسبتاً کم زیرِ بحث پہلو یمن اور بحیرہ احمر کی صورتحال سے اس کا تعلق ہے۔ سعودی عرب گزشتہ برسوں کے دوران اپنی سرزمین، توانائی تنصیبات اور تجارتی راستوں کو لاحق خطرات کم کرنے کے لیے مختلف سلامتی انتظامات کی کوشش کرتا رہا ہے۔

اسی دوران بحیرہ احمر میں جہاز رانی اور علاقائی استحکام کے مسائل نے اس معاملے کو بین الاقوامی اہمیت دے دی ہے۔

تاہم ناقدین کا مؤقف ہے کہ اگر یمن کے بحران کی بنیادی وجوہات کا سیاسی حل تلاش نہ کیا گیا تو نئے اتحاد بھی دیرپا سلامتی فراہم نہیں کر سکیں گے۔ اس تناظر میں معاہدۂ مکہ دفاعی صلاحیت تو بڑھا سکتا ہے، مگر ضروری نہیں کہ وہ خود بخود تمام سیاسی اور سلامتی بحرانوں کا حل بھی ثابت ہو۔

کیا یہ مشرقِ وسطیٰ کا نیا نیٹو بن سکتا ہے؟

مختصر مدت میں ایسا تصور مبالغہ آمیز ہوگا۔ کسی سیاسی معاہدے کو ایک حقیقی فوجی اتحاد میں تبدیل کرنے کے لیے مستقل سیکریٹریٹ، مشترکہ کمان، فیصلہ سازی کا واضح نظام، مشترکہ مشقیں، انٹیلی جنس تعاون، عسکری معیار بندی اور بحران کے وقت عملی تعاون کے طریقۂ کار جیسے مراحل سے گزرنا ضروری ہوتا ہے۔

اطلاعات ہیں کہ اس اتحاد کے لیے ریاض میں مستقل مرکز قائم کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے باوجود اس راہ میں متعدد چیلنجز موجود ہیں۔

تینوں ممالک کے جغرافیائی حالات، سیاسی ترجیحات، سلامتی خدشات اور خطرات کے بارے میں تصورات ایک جیسے نہیں۔ اسی لیے اصل امتحان معاہدے پر دستخط نہیں بلکہ اسے عملی اداروں اور مؤثر تعاون میں تبدیل کرنا ہوگا۔

امریکہ کے لیے کیا پیغام؟

واشنگٹن بلاشبہ ان اولین فریقوں میں شامل ہوگا جو اس معاہدے کے اثرات کا بغور جائزہ لیں گے۔

اگر یہ تعاون صرف دفاعی ہم آہنگی تک محدود رہتا ہے تو امریکہ کو اس پر اعتراض کی کوئی خاص وجہ نہیں ہوگی، بلکہ ممکن ہے وہ اسے اپنے اتحادیوں میں زیادہ ذمہ داری منتقل کرنے کی پالیسی کے مطابق سمجھے۔

البتہ اگر مستقبل میں یہ اتحاد ایک ایسے علاقائی سلامتی ادارے میں تبدیل ہو جاتا ہے جو اسلحہ سازی، معلوماتی تعاون، مشترکہ مشقوں اور سلامتی بحرانوں کے بارے میں آزادانہ فیصلے کرنے کی صلاحیت حاصل کر لے، تو صورتحال مختلف ہو سکتی ہے۔

سب سے بڑی قوت اور سب سے بڑا چیلنج

اس اتحاد کی سب سے بڑی طاقت تین مختلف صلاحیتوں کا امتزاج ہے: سعودی عرب کی مالی قوت، ترکیہ کی دفاعی صنعت اور پاکستان کا عسکری تجربہ۔

لیکن اس کی سب سے بڑی کمزوری بھی یہی تنوع ہے۔

تینوں ممالک ابھی تک خطرات کے بارے میں یکساں نقطۂ نظر نہیں رکھتے اور نہ ہی ہر علاقائی مسئلے پر ان کے مفادات مکمل طور پر ہم آہنگ ہیں۔ اسی لیے اس اتحاد کا مستقبل اس بات پر منحصر ہوگا کہ وہ اپنے سیاسی اختلافات کو کس حد تک مؤثر انداز میں سنبھال سکتے ہیں۔

علاقائی سلامتی؛ اتحاد سازی سے آگے

حالیہ علاقائی جنگوں اور ان کے بعد کے حالات نے ایک حقیقت کو مزید نمایاں کر دیا ہے کہ درآمد شدہ یا بیرونی سلامتی ضمانتیں، خواہ وہ کتنی ہی جدید عسکری ٹیکنالوجی اور بڑی طاقتوں کی حمایت پر مبنی کیوں نہ ہوں، حقیقی بحرانوں میں اپنی حدود رکھتی ہیں۔

اسی لیے بعض مبصرین کے نزدیک پائیدار سلامتی کا راستہ صرف نئے عسکری اتحادوں سے نہیں بلکہ ایک مشترکہ علاقائی فہم سے ہو کر گزرتا ہے؛ ایسا فہم جس میں خطے کے ممالک خود اپنی سلامتی کی بنیادی ذمہ داری قبول کریں، اختلافات کو مکالمے کے ذریعے حل کریں اور بیرونی طاقتوں کا کردار فیصلہ کن کے بجائے محدود ہو۔

حاصل سخن

معاہدۂ مکہ مشرقِ وسطیٰ کے سلامتی منظرنامے میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ یہ اس رجحان کی عکاسی کرتا ہے کہ علاقائی ممالک اپنی سلامتی کے لیے مقامی صلاحیتوں پر زیادہ انحصار کرنا چاہتے ہیں اور مکمل طور پر بیرونی طاقتوں پر تکیہ کرنے کے ماڈل کو ناکافی سمجھنے لگے ہیں۔

تاہم ابھی اسے ’’مشرقِ وسطیٰ کا نیٹو‘‘ قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ اس وقت یہ زیادہ تر ایک سیاسی و دفاعی فریم ورک ہے جس کا مقصد مشترکہ بازدار قوت پیدا کرنا ہے۔ اس کی اصل کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان اپنے سیاسی عزم کو عملی اداروں، مشترکہ کمان، دفاعی تعاون اور مؤثر اجتماعی ردِعمل کے نظام میں تبدیل کر پاتے ہیں یا نہیں۔

آخرکار معاہدۂ مکہ کے بارے میں بنیادی سوال یہ نہیں کہ ’’یہ اتحاد کس کے خلاف ہے؟‘‘ بلکہ یہ ہے کہ ’’کیا اس کے رکن ممالک واقعی ایک مشترکہ اور مؤثر دفاعی قوت تشکیل دے سکیں گے؟‘‘ یہی سوال آنے والے برسوں میں مشرقِ وسطیٰ کے سلامتی نظم کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

News ID 1940589

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha